ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پنجاب میں نیا تنازعہ: ڈپٹی سی ایم رندھاوا کے داماد ایڈیشنل ایڈ وکیٹ جنرل منتخب، اپوزیشن کا سرکار پر حملہ

پنجاب میں نیا تنازعہ: ڈپٹی سی ایم رندھاوا کے داماد ایڈیشنل ایڈ وکیٹ جنرل منتخب، اپوزیشن کا سرکار پر حملہ

Mon, 08 Nov 2021 20:01:10    S.O. News Service

چنڈی گڑھ،8نومبر (آئی این ایس انڈیا) پنجاب کی سیاست میں ایک نئے تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ ڈی جی پی اور ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کو لے کر تنازع کے درمیان ڈپٹی سی ایم سکھ جندر رندھاوا کے داماد ترون ویر سنگھ لہل کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ بھی رندھاوا کے ساتھ ہے۔ اس حوالے سے پیر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈووکیٹ ترون ویر لہل کی یہ تقرری آئندہ 31 مارچ تک کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے، تاہم اس تقرری کو سالانہ بنیادوں پر بڑھانے کا اختیار بھی ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتیں چنی حکومت پر حملہ آور ہو گئی ہیں۔اپوزیشن نے ترون ویر لہل کی تقرری پر حکومت پر نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کانگریس حکومت انتخابات سے قبل اپنے محکموں میں اپنے عزیزوں کو تقرریاں دے رہی ہے، جبکہ بے روزگاروں کو نوکریاں دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے حکومت پر اقربا پروری کے فروغ کا الزام لگایا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما اور پنجاب کے شریک انچارج راگھو چڈھا نے اس معاملہ میں کہا کہ اس حکومت میں صرف کانگریس کے وزراء اور ایم ایل اے کے رشتہ داروں کے پاس ہی نوکریاں ہیں۔ چرنجیت چنی کیپٹن امریندر کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ریاست کا ایڈوکیٹ جنرل کا دفتر پہلے ہی سرخیوں میں ہے،کیونکہ پنجاب صوبائی کانگریس کے صدر نوجوت سدھو نے ایڈوکیٹ دیول کی اے جی کے عہدے پر تقرری پر سوالات اٹھائے ہیں، اور دیول کو ہٹانے کے لیے چنی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔کیپٹن امریندر سنگھ کی حکومت کے دوران دو ایم ایل اے کے بیٹوں کو نوکریاں دینے پر تنازعہ ہوا ہے۔ ایم ایل اے فتح جنگ باجوہ اور راکیش پانڈے کے بیٹوں کو سرکاری نوکریاں دی گئی ہیں۔ باجوہ کے بیٹے نے تنازع کے بعد نوکری چھوڑ دی تھی۔ وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے قبل کیپٹن حکومت نے سابق وزیر گرپریت کانگر کے داماد کو سرکاری نوکری بھی دی گئی تھی۔


Share: